ابنا: فارس نیوز ایجنسی کے مطابق سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن دور کے وزیر اقتصاد اور معروف سیاسی محقق ڈاکٹر پال کریگ رابرٹس (Paul Craig Roberts) کا کہنا ہے کہ لیبیا میں جنگ سے امریکا کا مقصد صدر قذافی کو سرنگوں کرنا نہیں بلکہ روس اور چین کا مقابلہ کرنا ہے۔
ڈاکٹر رابرٹس روسی نے روسی نیوز چینل "رشیا ٹوڈے" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اوباما حکومت لیبیا میں جنگ کے ذریعے چین کو اقتصادی طور پر طاقتور ہونے سے روکنا چاہتی ہے کیونکہ چین نے لیبیا کے مشرقی حصے میں تیل کے ذخائر کیلئے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔یاد رہے آئی ایم ایف نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ چین اگلے 5 سال میں معیشت کے میدان میں امریکہ سے آگے نکل جائے گا اور دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بن کر ابھرے گا۔
کریگ رابرٹس نے کہا کہ امریکی حکام انتہائی پریشان ہیں اور دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے کیلئے چین کو توانائی فراہم کرنے والے آزاد ذخائر کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔انھوں نے شام میں جاری فسادات اور ہنگاموں میں امریکی مداخلت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ہنگاموں کی اصل وجہ یہ ہے کہ امریکہ طرطوس نیوی اڈے سے روسی فوجیوں کو نکلنے پر مجبور کر دینا چاہتا ہے اور امریکی بحیرہ روم میں روسی فوجیوں کی موجودگی نہیں چاہتے۔یاد رہے کہ امریکہ نے گذشتہ ہفتے اپنا میزائلوں سے لیس بحری بیڑہ یوکرین کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے بہانے بحیرہ اسود کی جانب روانہ کیا ہے جس پر روس کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔پال کریگ رابرٹس نے کہا کہ امریکہ ایسے عرب ممالک میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں کر رہا ہے جن سے چین اور روس کے مفادات وابستہ ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
/110